دلچسپ و عجیب

امی پورا پورا دن گھر سے باہر رہتی تھیں جب رات کو گھر پہنچتی تو

ہم سب ہنسی خوشی زندگی کند رہے تھے کہ اچانک ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ۔ میرے والد کا نام بشیر احمد تھلہ وہ بہت سنجیدہ مزاج انسان تھے، ہمیشہ شلوار قمیض پہنا کرتے ان کے چہرے پر داڑھی تھی اور میری امی کا نام شیلا تھا ان کے چہرے پر داڑھی تھی اور میری امی کا نام شیلا تھا نشیلی آنکھیں اور لمبے لمبے بال تھے کہتے ہیں اللہ تعالی اپنے ہر بندے کی آزمائش لیتا ہے اس کے کچھ بندے اس کی آزمائش پر پورا اتر جاتے ہیں اور کچھ کمزور پڑھ جاتے ہیں۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے میری اور میرے اے

بھائی کی پوری زندگی بدل گئی۔ میرے بھائی کا نام اقبال اور میرا نام شاہ ہے۔ میرے ابو کا پیشہ رکشہ چلاتا تھا ۔ ابو کی آمدنی اتنی

نہ تھی کہ وہ امی کی خواہشات پوری کر سکتے۔ روز گھر میں لڑائی جھگڑا ہوتا تھا۔ امی پورا پورا دن گھر سے پہر رہتی تھیں۔ جب رات کو گھر پہنچتی تو کسی سے بات نہ کرتی اور سو جاتی جیسے ان کا اپنے شوہر اور اولاد سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ ای علی نام کے آدمی سے میں جو بہت امیر تھلہ ای اور اس آدمی کی نزدیکیاں بہت بڑھنے لگ گئیں اور امی نے اس آدمی سے

کسی ماں کو اپنی ہوایو کو پیار کرتا دیکھتی تو اس ماں کی ممتا کو دیکھ

کر میرا دل رو پڑتا اور گھنٹوں اکیلے بیٹھ کر رویا کرتی تھی۔ سردیوں میں جب تمام بچے اپنی ماں کی گرم آغوش کے سائے میں سو رہے ہوتے تو میں رات کی تیز ہواؤں کے جھونکوں سے ڈر جاتی تب میں ایک دیوار کے ساتھ گھنٹوں اپنا سر زمین کی آغوش میں رکھ کر سوتی اور دعا کرتی کہ اللہ تعالی اس رات کی سیاسی جلد ختم کر دے۔ تکلیف جب زیادہ ہوتی تو اپنوں سے زیادہ غیر لوگ ہمیں ترس کھا کر یہ کہتے یہ لو کھانا کھا لو ، کچھ لوگ

شادی کرنے کے لئے ابو سے طلاق کا مطالبہ کیا۔ ابو نے امی کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ تمھاری ایک بیٹی اور بیٹا ہے میرا نہیں کم از کم ان بچوں کے بارے میں ہی سوچ لو۔ مگر امی کچھ بھی سمجھنے کے لئے تیار نہ تھی۔ انہیں صرف اپنی خواہشات کی پردہ تھی اور اسی وجہ سے میرے والدین کی طلاق ہو گئی ۔ جس

وقت مجھے اور میرے بھائی کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ ہمیں دنیا کے اس اندھیرے میں تنہا کر گئی تھی۔ ابو اور اللہ تعالی کے سوا کوئی دوسرا سہارا نہ تھا جب

ترس کھا کر اپنے بچوں کے پہنے ہوئے کپڑے

مجھے اور میرے بھائی کو دیتے ہم انہیں بڑی خوشی خوشی پہن کر اپنے وقت کو گزرتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں میں بہت درد ہے ان درد کے سائے میں میں نے جینا سیکھ لیا تھلہ مجھے اپنی ماں سے نفرت ہو چکی تھی اس نے کبھی یہ جاننے کی بھی کوشش نہ کی تھی کہ اس کی اولاد کس حال میں ہے۔ کبھی ملنے بھی نہیں آتی تھی وہ عورت ماں کہلانے کے بالکل لائق نہ تھی۔ اپنی ماں سے دھوکہ کھانے کے بعد اب مجھے کسی

رشتے پر اعتبار نہ رہا تھلہ میرے ابو نے ہمیں پال پوس کر بتا کیا اور ہمارے لئے محنت کرتے تھے تاکہ دو وقت کی روٹی میسر ہو سکے میں اور میرے بھائی پریشانیوں کے باعث تعلیم حاصل نہ کر سکے وقت تیزی سے گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کے دس سال گزر کے وقت کے ساتھ زندگی بہت بدل چکی تھی اب میرے ابو بھی دوسری شادی کر چکے تھے۔ اس عورت کا نام صبا تھا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی طلاق شدہ عورت تھی اور ابو کو ہر وقت مانوس کرنے کے لئے بنی سنوری رہتی

تھی۔ سوتیلی ماں کے آنے کے بعد اب ابو بھی کافی بدل چکے تھے۔ اس عورت نے بیوی ہونے کے تمام فرائض وا کئے لیکن وہ ہمیں اپنی اولاد کی طرح نہیں اپنا پائی ۔ میرا ملنا جلنا خاندان سے بھی ختم کر دیا تھلہ میں پورا پورا دن اکیلے کمرے میں گند دیتی تھی۔ اس عورت کا رویہ ہم دونوں بہن بھائیوں سے بالکل اچھا نہ تھا ۔ مجھ سے پورے گھر کا کام کرواتی اور کھانا پکواتی اور بھائی کو بھی نوکری پر لگوا دیا تھا۔ جہاں غلط صحبت ملنے کی وجہ سے وہ سگریٹ پینے کا عادی بن چکا تھا اور آہستہ

آہستہ اس نے سارے نشے کرنا شروع کر دیے تھے۔ اس عورت نے مجھے تعلیم تک حاصل نہ کرنے دی اور نہ ہی مجھے اچھے اور برے کی تمیز سمجھائی۔ اس عورت کی ایک ماں اور دو شادی شدہ بہنیں اور ایک بھائی تھا اس کے گھر والے اکثر آیا کرتے تھے۔ اس کا بھائی اچھی شخصیت کے کردار کا حامل نہ تھا مجھے غلط نظروں سے دیکھتا ۔ کبھی کسی بہانے سے میرا ہاتھ پکڑے اور کبھی کسی بہانے سے میرے پاس آکر بیٹھ جائے میں نے اس کی شکلیت اپنی سوتیلی ماں سے کی تو اس نے الٹا مجھے ڈانٹا ،

دھمکایا اور گھر والوں کی نظر میں مجھے غلط معیت کر دیا تھا تا کہ مجھ پر کوئی یقین نہ کرے۔ میں اس عورت کے ظلم کا حصہ بن چکی تھی اس نے میری نا کبھی اور معصومیت کا فلدہ اٹھایا اور جس عمر میں بچے پڑھتے ہیں اس عمر میں میرے دماغ میں عشق و محبت جیسی باتیں بھر دیں ۔اپنے ذاتی مفاد کی خاطر میرا رشتہ اپنی خالہ کے بیٹے سے کر دیا۔ رشتے کے وقت میں بارہ سال کی تھی اور ایک سال گزرنے کے بعد آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ رشتہ میری سوتیلی ماں نے ختم کر دیا۔

سوتیلی ماں مجھ سے کسی نہ کسی طریقے سے جان چھڑانا چاہتی تھی اور پھر میرا رشتہ روحان نامی چھبیس سالہ لڑکے سے کر دیدہ لڑکے کا رنگ گندمی تھا اور غریب طبقے سے تعلق رکھتا تھا اور رکشہ چلاتا تھلہ رشتے کے بعد وقت تیزی سے گزرتا گیا اب میری عمر پندرہ سال ہو چکی تھی۔ شادی کی تیدیں ہو رہی تھیں۔ ایک دن میں اور میرا بھائی شادی کا سامان لینے بدر کے وہاں سے واپسی پر ایک عورت روڈ پر بھیک مانگ رہی تھی۔ اس کی صدا کان میں آئی تو ہم دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ کوئی اور

نہیں ہماری ماں تھی۔ وہ ہمیں پیچان نہ سکی لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ ہم انہیں کی اولاد ہیں۔ جب ہم نے پوچھا کہ آپ کی یہ حالت کس نے کی تو انہوں نے بتایا کہ جس آدمی کے لئے میں نے اپنے انمول رشتے ٹھکرا دیے آج اس آدمی نے مجھے چھوڑ دیا۔ کیونکہ اللہ تعالی نے مجھے اولاد جیسی نعمت سے محروم کر دیا تھا میں اس کو اولاد نہ دے سکی ۔ امی نے ہم دونوں سے بہت معافی مانگی اور ہم انہیں معاف کر کے گھر آئے۔ وہ بھی میری شادی میں شریک ہوئیں اللہ تعالی نے میرے صبر کے کے

صلے میں بہت اچھے شوہر سے نوازل وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ شادی کے بعد مجھے اپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے بھی آزادی مل چکی تھی۔ میرے کہنے پر میرے شوہر نے میری ماں کو بھی اپنے گھر میں جگہ دے دی۔ میں نے انہیں کبھی بھی اس بات کا احساس تک نہ ہونے دیا کہ وہ ہمیں ماں کا پیار نہ دے سکی اور ان کی بہت خدمت کی ۔ میں اللہ تعالی کا بہت فکر ہوا کرتی ہوں کہ مجھے اپنی اس نئی زندگی میں سکون، محبت ، اور وہ سب کچھ حاصل ہے جس کی مجھے چاہت تھی۔

Sharing is caring!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button