دلچسپ و عجیب

ڈیرہ غازی خان میں تین سرجن ڈاکٹروں نے ایک لڑکی کے

ایک لڑکی جگر کے عارضے میں مبتلا ہو گئی, والدین کے کیے یہ خبر کسی مصیبت سے کم نہیں تھی, ایک تو ان کی اکلوتی بیٹی تھی جس کے فائنل exam قریب تھے, اور اس بیماری کی وجہ سے وہ اپنے امتحانات دینے سے قاصر تھی, والدین لڑکی کو ایک ہسپتال میں لے کئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ لڑکی کا آپریشن کرنا پڑے گا, آپ جلدی سے رقم کا بندوبست کریں تاکہ فوراً لڑکی کا آپریشن کیا جا سکے, والدین نے بینک سے رقم قرض لے کر بچی کا آپریشن شروع کروایاد ڈاکٹروں نے فوراً لڑکی کا آپریشن شروع کیا, آپریشن کامیاب ہوا اور لڑکی بلکل ٹھیک ہو گئی مگر کچھ ماہ بعد ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے والدین کے پیروں تلے زمین نکل گئی, لڑکی کو مسلسل قے آنا شروع

ہو گئی اور سر بھی چکرانے لگا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر نے چیک اپ کرنے کے بعد والدین کو بتایا کہ آپ کی بیٹی حاملہ ہو چکی ہے, کافی سوچ بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ڈاکٹروں نے ہی ہماری بچی کو داغدار کیا ہے۔ وہ ایسی بلکل نہیں ہے, انھوں نے تین ڈاکٹروں کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا جنہوں نے اس لڑکی کا آپریشن کیا تھا۔ جب ڈاکٹروں کو اس بات کی خبر ہوئی تو ان کو بہت غصہ آیاد

تینوں ڈاکٹر عدالت میں پیش ہوئے اور ساتھ ہسپتال کا دوسرا عملہ بھی گواہ کے طور حاضر ہوا جنہوں نے ڈاکٹر کے حق میں گواہی دی کہ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے,10سال کے عرصے میں تینوں ڈاکٹروں

کے خلاف کسی نے کوئی شکلیت نہیں کی, ڈاکٹروں نے اپنی صفائی میں آپریشن کی ویڈیو بھی پیش کی جس میں انھوں نے آپریشن کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ عدالت نے تمام گواہوں کی موجودگی میں ڈاکٹروں کو باعزت بری کر دیا اور لڑکی کے والدین کے بے بنیاد الزام لگانے کے جرم میں 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیاد لڑکی کی پورے محلے میں بدنامی ہوئی جس کے وجہ سے اس نے اپنی نس کاٹ کر جان دے دی, والدین کو بھی اپنا محلہ تبدیل کرنا پڑا مگر کہانی ادھر ختم نہیں ہوئی, اب مکافات عمل کا سلسلہ شروع ہوا, کچھ عرصہ بعد ایک سرجن کی بیوی کسی کے ساتھ بھاگ گئی اور گھر کا قیمتی سامان اور زیورات بھی ساتھ لے گئی, ڈاکٹر صاحب یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور اسے فالج کا جھٹکا لگاو پچھلے کافی عرصہ سے وہ بستر پر

معذوروں کی زندگی گزار رہا ہے, دوسرے ڈاکٹر کا کار ایکسیڈنٹ میں بہت نقصان ہوا, دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑی اور نوکری سے بھی ہاتھ دھو بٹھا۔

جبکہ تیسرا ڈاکٹر جو سب سے سینئر تھا اور عمر میں بھی بڑا تھا اس کی بیٹی گھر سے لاپتہ ہو گئی, اس نے پولیس میں رپٹ درج کروائی مگر لڑکی نہ مل سکی, ایک ہفتے بعد کوئی بے ہوشی کی حالت میں لڑکی کو گھر کے دروازے پر پھینک کر بھاگ گیا۔ تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ وہ لڑکی کے یونیورسٹی کے دوست ہی تھے جو لڑکی کو بہکا کر ایک ہوٹل میں لے کئے اور اس کی عزت تار تار کر دی, اس واقعے کے بعد ڈاکٹر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا, تین میں سے دو ڈاکٹروں نے بعدمیں اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ تینوں گنہگار تھے, انھوں نے اپنے آپریشن میں کئی خواتین کو داغدار کیا اور اپنے مقدس پیشے سے غداری کی, تینوں مکافات عمل سے گزر رہے ہیں، ان کی زندگی اذیت ناک ہے, انھوں نے ایک خط میں اپنے نوجوان ڈاکٹروں کو نصیحت کی کہ مسیحا بن کر لوگوں کی خدمت کریں اور اس راستے پر نہ چلیں جس پر ہم چل پڑے تھے, ایک ایسی دلدل میں پھس کئے جس سے واپسی ممکن ہی نہیں

Sharing is caring!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button