دلچسپ و عجیب

ایک عورت پہاڑی میں سے سفر کر رہی تھی کہ ندی سے ایک قیمتی ہیرا ملا بے چاری عورت کوبھوکے فقیر نے

خیرات میں دیں جس کی اسے اشد ضرورت ہے ، بلکہ سخاوت یہ ہے کہ جس چیز کی آپ کو اشد ضرورت ہو وہ چیز آپ دوسروں میں بانٹ دیں۔ایک عورت پہاڑوں میں سفر کر رہی تھی کہ دوران سفر اسے ایک ندی کے اندر سے ایسا نایاب و قیمتی پتھر ملا جس کی تلاش میں وہ برسوں سے دشت و دریا کی خاک چھان رہی تھی ۔ اس نے پتھر اٹھا کر اپنے سفری تھیلے میں رکھ لیا ۔ اگلے دن اس عورت کی ملاقات ایک ایسے مسافر سے ہوئی جو بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو چکا تھا ۔ اس عورت نے مسافر کو کھانا دینے کی غرض سے تھیلے کو کھول کر جب کھانا نکالنا چاہا تو اس مسافر

کی نظر تھیلے کے اندر پڑے ہوۓ قیمتی پتھر پر پڑ گئی اور اس نے خاتون سے کہا ، اگر آپ مجھے کھانا دینے کی بجاۓ یہ پتھر عنایت کر دیں تو میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔اس عورت نے وہ پتھر نکالا اور بلا تامل اس مسافر کو دے دیا ۔ مسافر قیمتی پتھر کو پاکر بے حد خوش تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی بقیہ زندگی کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ پتھر کافی تھا ۔ چند دن گزرے تو وہ مسافر ایک بار پھر اس عورت کے پاس گیا ، اور وہی قیمتی پتھر واپس لوٹاتے ہوئے کہنے لگا ” میں جانتا ہوں کہ یہ پتھر نہایت قیمتی ہے اور میری زندگی کی گزر بسر کے لیے ،

کافی ہے ، مگر میں سوچ رہا ہوں کہ آپ کے پاس اس پتھر سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے ، میں اس امید پر یہ قیمتی پتھر واپس کر رہا ہوں کہ اگر آپ یہ پتھر واپس رکھ لیں اور بدلے میں مجھے وہ چیز دے دیں جو آپ کے من کے اندر ہے ، وہ احساس اور جذبہ جس نے یہ قیمتی پتھر دینے سے آپ کو روکا نہیں ، اور نہ ہی دے کر پچھتاوے کا احساس رکھا ۔ وہ چیز جو آپ کو اس قابل بناتی ہے کہ آپ اپنی پیاری اور قیمتی چیز کو بلا ہچکچاہٹ دوسرے ضرورت مند کو دے دیتے ہیں ۔ انسان کے اندر بیداری کا عمل چاہے تو برسوں کی ریاضت سے بھی شروع نہ ہوسکے اور چاہے

تو ایک معمولی سے واقعے سے ہی انسان کے من کی دنیا روشن ہو جاۓ ۔ جس آدمی کو پتھر ملا وہ بھی غیر معمولی تھا ۔ اکثر لوگ قیمتی چیز لے کر بھاگ جاتے ہیں ۔ لیکن اس آدمی نے سوچا کہ یہ عورت اتنی آسانی سے ، اتنی قیمتی چیز کیسے دے سکتی ہے ۔ آدمی کے اندر بیداری پیدا ہونے لگی ، جو کہ مالی یا دنیاوی قدر سے بالاتر تھی ۔ چنانچہ اس نے وہ پتھر عورت کو واپس کر دیا تاکہ وہ چیز تلاش کر سکے جس کی وجہ سے قیمتی سے قیمتی چیز بھی لوگوں کو دینے میں افسوس یا پچھتاوے کا شائبہ تک نہ ہو ۔ اس دنیا کے اجتماعی لاشعور میں ، ہم سب ایک ایسے خوف میں مبتلا ہیں جو ہمیں ہر وقت بے چین رکھتا ہے ، اور جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے

جو ہمیں ہر وقت بے چین رکھتا ہے ، اور جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے دوسروں کو نہ دینے کے لیے ہر دلیل اور ہر تاویل مہیا کرتا ہے ۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ آخری بار آپ نے کب اپنی پیاری اور قیمتی چیز دوسروں کو دی تھی جس کی ضرورت آپ کو سب سے زیادہ تھی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button