کہانیاں

میں اپنے دیور کے ساتھ رات کو

میں اپنے دیور کے ساتھ رات کو گھر ارہی تھی راستے میں ہمارہ موٹر سائیکل پنچر ہو گیا وہاں سے تین شرابی دوست گزر رہے تھے جن کی نظریں مجھ پر پڑیں اور وہ تینو۔۔۔۔ میرا نام عزمہ ہے میری نئی نئی شادی ہوئی تھی میرا شوہر بیمار تھا تو اس نے اپنے بھائی کو ہمارے گھر بیجھ دیا مجھے لینے کے لیے میری

شادی کو بس دو تین مہینے ہوئے تھے عمر مجھے پیار کرتا تھا گھر میں سب مجھے بہت اچھار و یہ اختیار کرتے تھے میرے دو دیور تھے عمر میں مجھے بڑے تھے لیکن میرے شوہر کے چھوٹے بھائی تھے وہ بھی مجھے شرارتیں کرتے تھے میری ساس سسر بھی مجھ پر فدا تھے میں اپنے مائی کی گھر گئی تھی جب واپس ار ہی تھی تو میں نے عمر کو کال کیا کہ مجھے اگر لیجا اسنے کہا حمید رہا ہے تمہیں لینے میں نے کہا ٹھیک ہے اس سے

گپ شپ لگائی اور میں اپنے دیور کے ساتھ رات کو گھرارہی تھی راستے میں ہمارہ موٹر سائیکل پہنچپر ہو گیا وہاں سے تین شرابی دوست گزر رہے تھے

جن کی نظریں مجھ پر پڑیں اور وہ تینو ہمارے پاس ارہے تھے میرا دیور انکو غور رہا تھا کہ یہ ہمارے ساتھ کچھ کر نادے لیکن وہ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے وہ جگہ بہت سنسان تھی میں ادھر ادھر دیکھ کر بہت ڈر جاتی خمید نے فون ملانے کے کوشش کی لیکن وہاں نیٹورک کام نہیں کر رہا تھا پاس میں کوئی قریب آبادی بھی نہیں تھی دس بارہ منٹ پیدل سفر کے دوران ہم بہت تھک کئے میں نے خمید کو کہا کہ یہاں تھوڑا رک جاتے ہیں تب تک یہ لوگ بھی چلے جائیں گی پھر ہم سکون سے چلتی ہے اسنے میری بات مانی اور ہم سائیڈ پر رکھ کئے وہ نشئی ہم کو دیکھ کر ہنس رہے تھے اور چلے کئے تھوڑا دور جا کر وہ لوگ غائیب ہو گئے اب ہم تھوڑا ریلکس ہو کر چلنے لگے اس سڑک پر رات کو دس بجے اکیلے جانا بہت ہی بہادری تھی لیکن ہم نس چکے تھے ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا تھوڑا اگے جاکر وہاں سے دور ایک گھر نظر ار ہا تھا میں نے خمید کو کہا وہاں چلتی ہے وہ لوگ شاید کچھ مدد کر سکیں اسنے کہا ٹھیک ہے

ہم نے روڈ پر بانک لاک کر کے چھوڑ دیا اور سڑک سے تھوڑا دور کھیتوں میں ایک گھر تھا ہم دونوں وہاں چلی گئی وہاں پہنچتے ہی میری جان نکل گئی وہی شرابی دوست اکھٹے بیٹے تھے اور ان کے ساتھ دو تین اور لوگ بھی تھے جو مکمل خوش میں تھے وہ سب ہم کو دیکھ کر ہنس رہے تھے حمید نے کہا چلو واپس چلتے ہیں ہم وہاں سے واپس موڑنے لگے تو ایک بوڑھے آدمی نے آواز دی کر روک دیا اسکی عمر تقریباًسٹ سال کی قریب ہوتی ہو گی اس نے خمید کو کہا بیٹا ڈرو مت بتاو کیا مسلہ ہے خمید نے اس کو بتایا بائیک خراب ہے اور راستہ بہت ہی سارہ مسلہ اس بزرگ کے آگے پیش کیا وہ شکل سے بہت شریف لگ رہا تھا اس نے کہا ٹھیک ہے بیٹا لیکن اس وقت یہاں کا خالات بہت خراب ہے میں کسی کو فون کر کے یہاں پر بلاتا ہوں وہ اپکے بائیک کو ٹھیک کر دے گا پھر چلے جانا تب تک تم ہمارے گھر پر رک جاو خمید نہیں مان رہا تھا لیکن میں نے اس کو بتایا کہ بس اب کوئی چارہ نہیں ایک گھنٹے کی تو بات ہے پھر چلے جائیں گے

انکل نے حمید کو باہر بیٹا یا اور مجھے اندر اپنے گھر بیجھ دیا اس کی ایک بیوی تھی وہ بھی بڑھی تھی میں وہاں جا کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس سے باتیں کرنے لگی تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک نشئی اندرا گیا اور مجھے دیکھ کر اپنے لبو پر زبان پھیر رہا تھا میں نے اس سے اپنا چہرہ چپاد یا پھر انکل ایا مجھے کہنے لگا بیٹا خمید کو اندر سلا دیا اور اب ایسے ایک ریقوسٹ ہے کہ یہ نشئی میرا بیٹا ہے اسکو کوئی بیٹی کارشتہ نہیں دے رہا تمہارے دیوار نے بتایا کہ تم شادی شدہ ہو اس لیے ایسے التجا کرتا ہوں کہ میرے بیٹے کو وہ مزہ دو جس سے یہ بیچارہ محروم ہے اگر تم چلانا چاہو گی تو بھی کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اگر تم اسکو اپنی رضامندی سے خوش کرو گی تو ہم اپکو کچھ نہیں کہینگے اور نا اس بات سے تیرے دیور کو پتہ لگیں گا میں خاموشی سے

انکو دیکھ رہی تھی اور ڈاریکٹ اٹھ کر باہر دوڑی لیکن اس بڑھے نے مجھے پکڑ لیا اور دروازہ بند کر کے ان دونوں نے مجھے چار پائی کے ساتھ باندھ دیا میں چلانے لگئی

تو اس نشئی نے میری منہ میں اخبار ڈال دیں جس سے میرے چلانے کے اواز کمرے سے باہر نہیں نکل سکتی انہوں نے میرے ڈرس ارام سے نکالا اس بڑھنے نے اپنے بیٹے کی طوطے کو رگڑا لیکن وہ جاگ نہیں رہا تھا بڑھے نے اپنا لباس نکالا اور اپنے بیٹے کو میرے اگے بیٹا کر کہنے لگا دیکھو بیٹا طریقہ سیکھو اس طرح اپنے طوطے کو بڑا کر کے اس بلی پر رکھو اور پیچھے سے تیز گیر مارو یہ کہتے ہی بڑے کی طوطا میرے بلی میں چلا گیا اور اس نے پھر اپنے بیٹے کو سمجھانے کے لیے تیز تیز گیر مرنا شروع کر دیا جس سے میرے گیند ادھر ادھر ہو رہے تھے اس نشئی کی نظر میرے گیند پر پڑی تو اس نے اپنے باپ کو کہا مجھے یہاں سے جوس پینا ہے بڑھے نے میری گیند باہر نکالے اسنے دس منٹ تک خوب جوس پینے اور اس کا طوطا اب اٹھ گیا اسکے باپ نے میری پیر مکمل سیدھے کیے اور اپنے بیٹے کی طوطے کو پکڑ کر بلی پر سٹ کر دیا اور اسکی پیچھے ہو کر لات ماری اس نشئی کی طوطا میرے بلی میں غائب ہو گیا اور اب وہ اگے پیچھے ہور ہیا تھا

جس سے مجھے بھی مزہ آنے لگا اور وہ نان سٹاپ ٹورنامنٹ کرنے کے بعد جب فری ہو گیا تو چلانے لگا اور میرے اوپر الٹا لیٹا میں نے انکل کو کہا پلیز اب مجھے جانے دو یہ کسی اور کی امانت ہے میرے عزت کو نیلام مت کرنا پلیز اس نے کہا ٹھیک ہے بس تمہاری مہربانی اپ نے میرے بیٹے کو پر کٹس دیا میں اپکا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا میں بھی خوش ہو کر باہر نکل آئی خمید نے آواز دی کہ اجاو بائیک ٹھیک ہو گیا ہے گھر چلتے ہیں میں باہر آگئی تو وہ بڑھا بھی میرے ساتھ اگیا اسنے خمید کو کچھ نہیں بتایا اور نا ہی اسکو کچھ کہا وہ ہمارے ساتھ روڈ تک اگیا

خمید نے اس کو تینکس کیا تو وہ میرے طرف دیکھ کر کہنے لگا اپکی مہمان نوازی ہمارہ فرض تھا اور اپکی بہن کی بھی بہت خیال رکھا خمید نے ایک بار پھر تینکس کہہ دیا وہاں سے ہم نے بائیک سٹارٹ کر دیا وہ بڑھا مجھے دیکھ کر آنکھیں مار رہا تھا ہم وہاں سے نکل کئے تقریباً بارہ بجے تھے گھر پہنچے تو مجھے ڈر تھا کہ اگر شوہر نے ٹورنامنٹ کے لیے بلایا تو سارہ راز افشا ہو جا لگا لیکن وہ بیمار تھا تو جب ہم پہنچے تو وہ سو گیا تھا میں نے خود کو صاف کر دیا اور سو گئی اس بات کا پتہ میرے دیور کو بھی نا چلا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button