Wazifay

کسی سے بات منوانے کا وظیف

آج میں آ پ کےلیے ایک بہت ہی مجرب اور فائدہ مند عمل لے کر آیا ہوں جس کوکرنے کی برکت سے آپ اگر کسی سے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں نیک اور جائز بات۔ یا پھر کسی کے پاس پیسے پڑ یں ہیں وہ آپ کو نہیں دیتا ہے ۔ جب بھی اس سے مانگتے ہیں تو وہ آگے سے ٹال مٹول کرکے بات ٹال دیتا ہے۔ پیسے نہیں دیتا ۔ اس وظیفے کی برکت سے انشاءاللہ وہ بندہ آپ کے پیسے بھی واپس کردے گا۔ اور آپ کی انشاءاللہ بات بھی مانے گا۔ سب سے پہلے اس وظیفے کی جو سورت ہے اس کی بات کرتا ہوں۔ آج کا جومیرا وظیفے کا عنوان ہے وہ بھی کسی سے بات منوانے کا۔ اس میں جو وظیفہ بتاناہے۔

وہ اللہ پاک کی کتا ب قرآن مجید کی لاریب سورت “سورت القریش ” ہے۔ حضرت واعسلہ بن اقصیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے کنانہ کو چن لیا اور کنانہ سے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنوہاشم میں سے مجھے چن لیا ۔ یہ مسلم شریف کی حدیث پا ک ہے۔ حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکر م ﷺ نے فرمایا:لو گ اس معاملے میں حکمرانی میں قریش کے تابع ہیں۔ کہ مسلمان ان کے مسلمانوں کے اور کافر ان کے کافروں کے تابع ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: خلافت قریش میں رہے گی۔

جب دین کے محافظ رہے۔ اور جو کوئی ان سے عداوت رکھے گا۔ اسے اللہ پا ک اوندھے منہ گرا دے گا۔ یہ بخاری شریف کی حدیث پا ک ہے۔ یہ جو سورت القریش ہے یہ بڑی بابرکت سورت ہے۔ بڑی عظمت والی سورت ہے۔ اگر اپنی مرضی سے کسی سے اپنی بات کو منوانا ہویا کسی کے پاس آپ کے پیسے پڑے ہوںوہ نہیں دیتا یا کوئی اور کام ہو۔ اگر آپ کا کسی سے کوئی کام ہواور آپ کوڈر ہے کہ یہ بندہ میری بات نہیں مانے گا۔ یا بات کو ٹال دے گا۔ اور آپ چاہتے ہیں کہ یہ بندہ میری بات کو مانیں۔جیسے میں بات کہوں ویسے میری بات کو مانے۔ تو اس کےلیے یہ عمل کریں۔ انشاءاللہ آپ کی مرضی کے مطابق آپ کی بات مان لی جائے گی۔ جب کسی کے پاس کام جانا ہواور وہ کام مکمل نہیں ہوتا تو اس کےلیے آپ یہ عمل کریں۔

جب کسی کے پاس کام جاناہوتو ستر مرتبہ سورت القریش کی تلاوت کریں۔ پھر اس بندے کا تصور کرکے اس بندے پر پھونک ماردے۔ پھر اپنی بات شروع کریں۔ اور راستے میں جب جاتے جائیں پڑھتے جائیں اور اس کے پاس جا کر اس پر پھونک ماردیں۔ تو سوال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ جس بندے کےلیے آپ نے یہ عمل کیا ہے کہ و ہ آپ کی بات کو ٹال دے۔ یا پھر وہ آپ کی بات پر عمل نہ کرے۔ یا وہ آپ کے کام میں مدد نہ کرے۔ آپ کی جوہربات جائز اورناجائز ہے وہ اس عمل کی برکت سے پوری ہوجائے گی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button